4 جولائی 2026 - 11:08
ڈاکٹر ناصر عباس شیرازی:شہید رہبرِ انقلاب کا فکر پاکستان اور ایران کو عالمِ اسلام کی مشترکہ قوت بنا سکتا ہے

پاکستان کے مرکز برائے امن و عالمی سفارت کاری کے سربراہ ڈاکٹر ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ شہید رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ایؒ ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، علاقائی تعاون اور خصوصاً ایران و پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات کے فروغ پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شہید رہبر کو صرف شیعہ برادری ہی نہیں بلکہ مختلف اسلامی مکاتبِ فکر اور عوامی حلقے بھی عالمِ اسلام کے عظیم رہنما اور ہیرو کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر، مرکز برائے امن و عالمی سفارت کاری کے سربراہ اور ممتاز تجزیہ نگار ڈاکٹر ناصر عباس شیرازی نے ابنا سے خصوصی گفتگو میں شہید رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کے وحدتِ امت، علاقائی ہم آہنگی اور اسلامی خودمختاری پر مبنی فکر کو ایران اور پاکستان کے مستقبل کے تعلقات کے لیے رہنما قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک شہید رہبر کے وژن کے مطابق اپنی مشترکہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو نہ صرف خطے بلکہ پورے عالمِ اسلام میں ایک نئی اسٹریٹجک طاقت ابھر سکتی ہے۔

ایران اور پاکستان کے تعلقات ریاستی سطح سے کہیں آگے ہیں

ڈاکٹر ناصر عباس شیرازی نے گفتگو کے آغاز میں کہا: بلا شبہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مختلف سطحوں پر نہایت قریبی اور مضبوط ہیں۔ یہ روابط صرف ریاستی سطح تک محدود نہیں بلکہ ریاست سے ریاست، عوام سے عوام اور قیادت سے قیادت تک دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور پائیدار رشتے موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان قدیم زمانے سے وسیع تاریخی روابط رہے ہیں۔ اس خطے کی تاریخی زبان ایک طویل عرصے تک فارسی رہی ہے اور ایرانی فن، ثقافت اور تہذیب نے اس پورے خطے پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ یہ تہذیبی اور ثقافتی اثرات واضح اور ناقابلِ انکار ہیں۔

ایران ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے

بین الاقوامی تعلقات کے اس استاد نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ اہم علاقائی اور انسانی مسائل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر سے لے کر پاکستان میں تباہ کن سیلابوں کے دوران عوام کی مدد تک، ایران نے ہمیشہ حمایتی اور برادرانہ کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح پاکستانی زائرین جو کربلا اور نجف کی زیارت کے لیے ایران کے راستے سفر کرتے ہیں، وہ ہمیشہ ایرانی عوام کی بہترین میزبانی سے مستفید ہوتے رہے ہیں، جس نے دونوں قوموں کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔

مرکز برائے امن و عالمی سفارت کاری کے سربراہ نے تصریح کی: تاہم ان تعلقات کے بنیادی اور نظریاتی دشمن — جن میں امریکہ اور صہیونی رژیم سے وابستہ عناصر سرفہرست ہیں — ہمیشہ ایران اور پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دے کر اور پاکستان میں تکفیری و دہشت گرد گروہوں کو تقویت دے کر بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا: ان کا مقصد یہ رہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور اسٹریٹجک تعلقات مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکیں۔ بدقسمتی سے آج تک دوطرفہ تجارت کا محدود رہنا جزوی طور پر انہی دباؤ، امریکی پابندیوں اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر عباس شیرازی نے کہا: ان تمام دباؤ کے باوجود عالمی استعمار اور اس کے ایجنٹ اپنے مکمل اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات دونوں قوموں کی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقائد میں جڑیں رکھتے ہیں، اور یہ تعلقات نہ ختم کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی متبادل موجود ہے۔

شہید رہبرِ انقلاب علاقائی تعاون پر زور دیتے تھے

مرکز برائے امن و عالمی سفارت کاری کے سربراہ نے گفتگو کے ایک اور حصے میں شہید رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ان کی اہم ترین تاکیدات میں سے ایک بین الاقوامی اور علاقائی تعاون کی ضرورت تھی۔ وہ ہمیشہ ایرانی حکام کو خطے کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے اور ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان، کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی تلقین کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا: رہبرِ معظم انقلاب ہمیشہ پاکستانی عوام کے بارے میں محبت اور احترام سے گفتگو کرتے رہے ہیں۔ مجھے بھی ان سے ملاقاتوں میں یہ خصوصی توجہ واضح طور پر محسوس ہوئی۔ خطے کی ثقافت، خصوصاً ایران اور پاکستان کے بلوچستان کے مقامی لباس سے ان کی دلچسپی، اس خطے کی ثقافتی شناخت کے بارے میں ان کی گہری بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔

اس پاکستانی تجزیہ نگار نے کہا: رہبرِ انقلاب کی شخصیت اس خطے میں غیر معمولی مقبولیت اور احترام رکھتی ہے، اور یہ محبت گہری تاریخی بنیادوں پر قائم ہے۔ ان کا فکر اسلامی عزت، استقلال اور عالمِ اسلام کی اجتماعی قوت کے فروغ پر مبنی ہے

انہوں نے شہید سید ابراہیم رئیسی کے دورِ صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: شہید رئیسی کے دور میں بھی ایران اور پاکستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کی گئیں۔ ان تعلقات کو مزید وسعت دی جانی چاہیے تاکہ دونوں ممالک اسٹریٹجک شراکت داروں کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو مشترکہ طور پر بروئے کار لا سکیں۔

ایران اور پاکستان کی مشترکہ صلاحیتیں عالمِ اسلام کے لیے قوت کا سرچشمہ

ڈاکٹر عباس شیرازی نے تصریح کی: ایران اور پاکستان منفرد اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ایران دنیا میں توانائی کے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ پاکستان نوجوان افرادی قوت اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع سے مالا مال ہے۔ اگر یہ صلاحیتیں یکجا ہو جائیں تو یہ خطہ عالمِ اسلام میں ایک بڑی اور مؤثر طاقت بن سکتا ہے۔

مرکز برائے امن و عالمی سفارت کاری کے سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا: رہبرِ انقلاب کی ہدایات کے مطابق اگر اس خطے کے ممالک کی صلاحیتیں اور توانائیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں تو نہ صرف علاقائی ترقی کی راہ ہموار ہوگی بلکہ اس سے خطے میں امریکی بالادستی کم ہونے بلکہ ختم ہونے کا امکان بھی پیدا ہوگا۔

پاکستان میں شیعہ اور سنی عوام کے درمیان شہید رہبر کی مقبولیت

ڈاکٹر عباس شیرازی نے مزید کہا: شہید آیت اللہ خامنہ ای پاکستان میں صرف کسی ایک گروہ یا مخصوص مسلک کے رہنما کے طور پر نہیں دیکھے جاتے، بلکہ بہت سے لوگ انہیں عالمِ اسلام کی ایک ممتاز شخصیت اور امتِ مسلمہ کے عظیم ہیرو کے طور پر جانتے اور قبول کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: پاکستان میں ہم نے دیکھا کہ تقریباً تمام اسلامی مکاتبِ فکر، دینی اداروں سے لے کر سماجی اور عوامی حلقوں تک، حالیہ پیش رفت پر مشترکہ مؤقف رکھتے تھے۔ عوام میں بھی امریکہ اور صہیونی رژیم کے اقدامات کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں خطے کے بحرانوں اور عدم استحکام کا بنیادی ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

یہ بین الاقوامی تعلقات کے استاد نے تصریح کی کہ شہید رہبرِ انقلاب کی ایک اہم ترین خصوصیت شیعہ سنی وحدت کے فروغ کے لیے ان کی سنجیدہ اور مسلسل کوشش تھی۔ اسی وحدت پر مبنی طرزِ فکر کے باعث امریکہ اور صہیونی رژیم کی پاکستان میں فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کرنے کی متعدد سازشیں ناکام ہوئیں اور ان کے اہداف کو شدید دھچکا پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں وہ نہ صرف شیعہ برادری کے درمیان بلکہ اہل سنت اور معاشرے کے دیگر وسیع طبقات میں بھی انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ شہید رہبر سے عقیدت کے اظہار کے لیے منعقد ہونے والے عظیم اجتماعات خود اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواہ پاکستان کے سرکاری اداروں کی سطح ہو یا عوامی افکار کی سطح، اسلامی جمہوریہ ایران کو خود انحصاری، استقلال اور استقامت کے ایک نمونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے؛ ایک ایسا ملک جو اپنے قدموں پر کھڑا ہوا اور علاقائی و عالمی معادلات میں مؤثر کردار ادا کرنے میں کامیاب رہا۔

ڈاکٹر عباس شیرازی نے کہا کہ انقلابِ اسلامی ایران کی آئیڈیالوجی پاکستان میں بہت سے لوگوں کے لیے الہام بخش ہے۔ جیسا کہ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینیؒ بھی اس پر زور دیتے تھے، یہ راستہ کسی مخصوص فرقے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو مکتبِ اصیلِ محمد و آلِ محمدؑ کا پیروکار اور امتِ مسلمہ کی عزت و وقار کا مدافع ہے، خود کو اس راستے کا حصہ سمجھتا ہے۔

مینارِ پاکستان کا عظیم اجتماع؛ اسلامی یکجہتی کی علامت

انہوں نے پاکستان میں حالیہ عوامی اجتماعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر احتجاجی مظاہروں، عوامی اجتماعات اور مشترکہ کانفرنسوں کا جائزہ لیا جائے تو اس یکجہتی کی بے شمار مثالیں سامنے آتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مثال 13 جون کو مینارِ پاکستان میں منعقد ہونے والا عظیم اجتماع ہے، جو شہید رہبر کی یاد میں منعقد کیا گیا۔

صدر مرکزِ مطالعاتِ امن و عالمی سفارت کاری نے مزید کہا کہ اندازوں کے مطابق اس تقریب میں 3 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے، اور اسے پاکستان کی معاصر تاریخ کے سب سے بڑے اجتماعات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس اجتماع میں مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے پیروکار ایک ساتھ موجود تھے اور کسی مخصوص جماعت یا تنظیم کا پرچم محور نہیں تھا، بلکہ سب ایک مشترک مقصد کے لیے جمع ہوئے تھے۔

علمی و ثقافتی تعاون کے فروغ کی ضرورت

ڈاکٹر عباس شیرازی نے ایران اور پاکستان کے درمیان علمی و ثقافتی تعاون کے حوالے سے کہا کہ ان روابط کو مختلف جہات میں فروغ دیا جانا چاہیے؛ خواہ تحقیق کے میدان میں ہو، جامعات کے درمیان ہو یا دونوں ممالک کے دینی مدارس اور مذہبی مراکز کے درمیان روابط کی صورت میں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک ایران شناسی کے حوالے سے سنجیدہ اور منظم کام بہت کم ہوا ہے۔ اسی طرح ایران کے بارے میں معتبر علمی اور تجزیاتی منابع، حتیٰ کہ انگریزی زبان میں بھی خاطر خواہ مقدار میں دستیاب نہیں، جبکہ بہت سے اہم آثار صرف فارسی زبان میں شائع ہوتے ہیں۔

اس بین الاقوامی تعلقات کے استاد نے زور دیا کہ اس میدان میں مزید کام کی ضرورت ہے۔ چونکہ اس خطے کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ فارسی زبان سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان میں فارسی زبان کے احیا اور ثقافتی آگاہی کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علمی و ثقافتی تبادلوں کے فروغ سے باہمی شناخت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہمارے مشترکہ مفادات ہیں اور حتیٰ کہ مشترکہ دشمن بھی؛ لہٰذا یہ ایک فطری امر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط ہو۔

ایران اور پاکستان خطے کی نئی معماری تشکیل دے سکتے ہیں

ڈاکٹر عباس شیرازی نے دونوں ممالک کے سیاسی ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے انقلابِ اسلامی کے بعد اسلامی جمہوری نظام حاصل کیا، تاہم یہ بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان بھی آئینی اعتبار سے ایسا ملک ہے جہاں قرآن و سنت کے خلاف کسی قانون کی اجازت نہیں۔ اس اعتبار سے دونوں ممالک کے نظریاتی مبانی میں قابلِ ذکر اشتراک پایا جاتا ہے۔

انہوں نے تصریح کی کہ ایران میں اسلامی جمہوریہ کا تصور ایسا ماڈل ہے جس میں اسلامیت اور جمہوریت دونوں کو ساتھ لے کر چلایا گیا ہے۔ یہ تجربہ پاکستان کے مختلف اداروں، بالخصوص قانون ساز اور پارلیمانی اداروں کے لیے الہام بخش ثابت ہو سکتا ہے۔

صدر مرکزِ مطالعاتِ امن و عالمی سفارت کاری نے کہا کہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں، خصوصاً سینیٹ اور قانون ساز اداروں کے درمیان قریبی روابط قائم ہونا ضروری ہیں تاکہ مشترکہ ہم آہنگی کے ساتھ عالمِ اسلام کے بڑے اہداف کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

ڈاکٹر عباس شیرازی نے زور دیا کہ یہ خطہ، جس میں پاکستان اور ایران دو بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں، اگر مختلف جہات میں اپنے تعلقات کو وسعت دے تو ایک نہایت طاقتور خطہ بن سکتا ہے۔ ہر ملک دوسرے کی کمزوریوں کو پورا کر سکتا ہے، اور یہی ہم افزائی نہ صرف اس خطے بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے قوت کا باعث بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج عالمی طاقت کا توازن بتدریج مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس عمل میں ایران اور پاکستان انتہائی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور عالمی افق پر اہم اور اثرگذار کھلاڑی بن سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha